|
||||||
ہر شب، شب قدر ہےروزہ رکھنا آنکھوں، کانوں اور زبان کو گناہوں سے دور رکھے بغیر صرف بھوک و پیاس کو تحمل کرنا ہے اور بس۔ ضروری ہے کہ ہویٰ و ہوس کو شکنجے میں جھکڑ کر نفس کی شیطنت کو کنٹرول کریں اور اس کے بعد دل کو توبہ کے پانی سے دھوئیں تا کہ آئنہ کی طرح نور حق اس پر چمکے اور خدا کی صفات اس پر جلوہ نما ہوں۔ ماہ رمضان، قرآن کے نزول ، فرشتوں کے نزول اور روح الامین کے نزول کا مہینہ ہے۔ ایک بار پھر خدا کی ضیافت اور مہمان نوازی کا دسترخوان بچھا ہے۔خدا کے باتقویٰ بندے اس کی مہمانی پر دعوت ہوئے ہیں۔ اس مہینہ میں اگر ہمارے جسم کے تمام اعضاء اور جوارح روزہ سے ہوں تو سونا اور سانس لینا بھی عبادت شمار ہو گا۔(۲) یہ مہینہ شیطان پر غالب آنے اور ظاہر کی طرف توجہ نہ کرنے کا مہینہ ہے۔ اگر ذرہ سی بھی ظاہر کی طرف توجہ کی دل سے نورانیت ختم ہو جائے گی۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کی شب ہاے قدر میں انسان اپنی زندگی کو امام زمانہ (ع) کا بیمہ کرتا ہے۔ ورنہ ہم خدا کی ولایت کے سایہ میں نہیں قرار پائیں گے۔ رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس کی ابتدا رحمت، جس کا وسط مغفرت اور جس کی انتہا آتش جہنم سے نجات ہے۔(۳) اگر اس مہینہ میں دل کو بہار نصیب نہ ہو تو پورا سال خزاں ہی رہے گا۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کی راتوں میں ایک اشک کا قطرہ آتش جہنم کو خاموش کر سکتا ہے۔ وہ مہینہ کہ جس میں فرشتہ زمین کا طواف کرتے ہیں۔ وہ مہینہ کہ جس میں شیطان زنجیر میں جھکڑا ہوا ہے۔ وہ مہینہ جس میں جہنم کے دروازے بند اور رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اور جب روزہ جہنم کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔ تو پھر غفلت کیسی؟ اب جب یہ "ایاما معدودات" تزکیہ نفس کے لیے بہترین فرصت ہیں تو پھر "لعلکم تتقون" (۴) کی منزل میں پہنچنے میں سستی اور کاہلی کیوں؟ اس مہینہ کے ایک ایک لمحہ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اور اس کےدنوں اور راتوں کو خدا کی عبادت کی راہ میں صرف کریں۔ تا کہ بارگاہ خدا وندی میں داخلے کی اجازت مل جائے۔ اس مہینہ کی شب ہائے قدر کی قدر جانیں ۔ ان راتوں میں بخشنے والا اس بات کا منتظر ہے کہ کوئی آئے اور مجھ سے بخشش طلب کرے۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی کو خدا کی اطاعت اور بندگی کی راہ میں صرف کیا ہے وہ شب ہائے قدر کے بارے میں فرماتے ہیں: ہر شب شب قدر ہے اگر ان کی قدر جانیں۔ حوالہ جات 1 . تنزل الملائكة و الروح . . ./ سوره قدر .
| ||||||