پہلا صفحہ » مناسبتها »

منجی عالم بشریت امام زمانہ(ع)

و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم آئمۃ و نجعلھم الوارثین (قصص،۵)

پندرہویں شعبان ۲۵۵ ھ کی مبارک اور مسعود صبح طلوع ہونے والی تھی ، امام حسن عسکری علیہ السلام کے خانہ امامت میں جوش و خروش اور انتظٓار کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ آج ملائکہ کی آمد و رفت دوسرے اوقات کے مقابلہ میں کچھ زیادہ ہی تھی ، رحمت الٰہی کی جلوہ نمائی اور خدائی شان و شوکت اور عظمت و جلالت کے انوار کی کرنیں ہر طرف پھوٹ رہی تھیں۔

آسمان کی بلندیوں پر فرشتوں اور مقرب بارگاہ ملائکہ کے درمیان ابھی سے خاندان نبوت اور رسالت کے اس چشم و چراغ کا چرچا ہے جو  عنقریب اس دنیا میں قدم رکھنے والا ہے اور جو اپنے پر نور چہرے اور محمدی جلال و جمال کے دیدار سے عالمین کی آنکھوں کو روشنی عطا کرے گا۔

جناب نرجس خاتون منزل فخر میں تھیں تکبیر و تہلیل اور تسبیح خدا کے ساتھ مبارکباد اور تبریک و تہنیت کی آوازیں ہر طرف گونج اٹھیں۔

نومولود نے اپنے سر کو سجدہ میں رکھ کر خدا کی وحدانیت، پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت اور اپنے اجداد طاہرین کی امامت کی گواہی دی پھر بہت ہی اچھی اور دلنشین آواز میں اس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض۔۔۔

اس بچہ کی پیدائش کے ساتھ خاندان رسالت پر خدائی عنایتوں کی تکمیل ہو گئی۔

جی ہاں، یہ فخر صرف نبوت و رسالت کے گھرانے سے ہی مخصوص ہے کہ بشریت کو ظلم و ستم سے نجات دینے اور عالمی پیمانے پر اسلامی حکومت قائم کرنے والی شخصیت کا تعلق اسی گھرانے سے ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) مسرور شادماں تھے کہ ان کا فرزند مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ان کی رسالت اور آفاقی پیغام کو جامہ عمل پہنائے گا۔ آپ اپنے خاندان والوں ، خاص طور سے حضرت علی، جناب فاطمہ، حضرت امام حسن، اور امام حسین علیھم السلام کو یہ  خوشخبری دے رہے تھے کہ مہدی (ع) وہی شخص ہے کہ جو اپنے بے مثال اور بے نظیر قیام کے ذریعہ شرک کی چولیں ہلا کر رکھ دے گا توحید و وحدانیت کی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم بنائے گا پوری دنیا پر اس کی حکومت ہو گی اور وہ انہیں حضرات کا فرزند ہے۔

یہ وہی بے نظیر اور لاجواب وجود ہے جس کے ظہور کی خوشخبری انبیائے الٰہی اور اولیائے کرام نے دی ہے نیز دنیائے بشریت کو اس سے متعلق یہ خوشخبری سنائی ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت ، عدالت کی برتری، دائمی امن و امان کے قیام اور ظالموں کی بساط کو لپیٹنے کے لیے قیام کرے گا اور اس خبر کے ذریعے وہ سب کو دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں پر امید بنائے ہوئے ہے۔

مصلح عالم پر اجماع مسلمین

جن چیزوں کے بارے میں تمام فرقوں کا اتفاق اور اجماع ہے ان میں آخری زمانہ میں اہلبیت پیغمبر (ص) کے درمیان سے قائم آل محمد (ع) کا ظہور بھی شامل ہے اور اس نظریہ کے تمام قائلین ایک ساتھ مل کر ایک ایسے عالمی انقلاب اور مصلح کے ظہور کا انتظٓار کر رہے ہیں جو خدا وند عالم پر ایمان اور اسلامی احکام کی بنیادوں پر دنیا کے نظام کو چلائے گا۔ اور ہر طرف عدالت قائم ہو گی دنیا کو ظالموں کے خونخوارپنچوں سے نجات عطا کرے گا اور ا سلامی پرچم کو پوری دنیا پر بلند کرے گا۔

سب لوگوں کی آنکھیں اس کی طرف لگی ہوئی ہیں اور سب لوگ انتظار کی گھڑیاں گن رہے ہیں کہ  پیغمبر اکرم (ص) کی اولاد میں سے ایک محترم شخصیت قیام کر کے توحید ، اسلامی برادری اور مساوات کو نئے سرے سے زندگی عطا کردے ، بشریت کو سکون و اطمینان کو نعمت سے بہرہ مند کرے۔ تفرقہ و جدائی اور محرومی و ناکامی سے نجات عطا کرے۔

یہ ایک الٰہی وعدہ ہے جو ہر گز جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ دنیا اس روشن و تابناک دور کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے زمانہ کی رفتار، سورج کی گردش بشریت کو ہر لمحہ اس دن سے نزدیک تر کر رہے ہیں۔

حضرت مہدی (ع) کے ظہور اور پوری دنیا میں اسلامی حکومت قائم ہونے کے ایمان سے متعلق قرآن مجید کی متعدد آیات، متواتر روایات، اور مستحکم ترین اجماعات کو بہترین دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتاہے لہذا جو مسلمان بھی قرآن کریم  اور پیغمبر اسلام (ص) کی نبوت کا یقین رکھتا ہے اس کے لیے اس ظہور پر مکمل یقین اور ایمان رکھنا ضروری ہے۔

اجماع مسلمین

اگر اس اجماع اور اتفاق سے شیعوں کا اجماع مراد ہو تو یہ بالکل واضح ہے اور اسے سب ہی جانتے ہیں کہ امام حسن عسکری (ع) کے فرزند دلبند حضرت قائم آل محمد (ع) کا ظہور شیعہ اثنا عشری مذہب کا اہم حصہ ہے اور اگر اس سے تمام مسلمانوں کا اتفاق مراد ہو تواس کے ثابت کرنے کے لیے اہل سنت کے ایک صاحب نظر اور نکتہ سنج عالم، معتزلیوں کے علامہ ابن ابی الحدید کا یہی ایک جملہ کافی ہے جو انہوں نے شرح نہج البلاغہ ( مطبوعہ مصرج ۲ ص۵۳۵ ) میں تحریر کیا ہے۔

قد وقع اتفاق الفریقین من المسلمین اجمعین علی ان الدنیا و التکلیف لا ینقضی الا علیہ۔

"دونوں فرقوں سنی اور شیعہ  کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا اور تکلیف شرعی کا خاتمہ نہ ہوگا مگر حضرت پر " یعنی آپ کے ظہور کے بعد۔

اہل سنت کے چاروں مذاہب کے چار بزرگ علماء یعنی ابن حجر شافعی ، ابوالسرور احمد بن ضیاء حنفی ، محمد بن احمد مالکی، یحییٰ بن محمد حنبلی سے جب اس سلسلے میں سوال کیا  گیا تو انہوں نے اسکا اسی انداز میں جواب دیا ۔ جس کی تفصیل کتاب " البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان" باب ۱۳ پر ان کے فتوؤں کے ساتھ نقل ہوئی ہے انہوں نے مسئلہ ظہور مہدی کو ثابت کرنے کےساتھ آپ (ع) کی بعض خصوصیات کی طرف اشارہ کیا ہے یعنی وہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینگے یا حضرت عیسیٰ (ع) آپ کی اقتدا کریں گے مختصر یہ کہ یہ ان کا مدلل ، دو ٹوک اور قانونی فتویٰ ہے حتیٰ کہ جناب زید کی طرف مہدویت کی جو غلط نسبت دی گئی تھی اس سلسلے میں بنی امیہ کے شاعر حکیم بن عیاش کلبی نے یوں کہا ہے: و لم ار مھدیا علی الجذع یصلب

مجھے کوئی ایسا مہدی نہیں دکھائی دیا جسے سولی دی گئی ہو

اس سے مراد یہ ہے کہ مہدی جب ظہور کریں گے تو تمام ممالک کو فتح کرینگے اور پوری دنیا میں صرف انہیں کی حکومت ہو گی۔

(ماخوذ از کتاب نوید امن وامان، مؤلف آیۃ اللہ صافی گلپائیگانی)