پہلا صفحہ » مناسبتها »

امام زمانہ(عج) کے دور غیبت میں آپ (ع) کی رویت کا دعویٰ کرنا جھوٹا ہے۔

"رسا" خبر رساں ایجنسی: مرکز فقہی آئمہ اطہار (ع) کے سربراہ آیت اللہ جواد فاضل لنکرانی  نے فرمایا: امام زمانہ (عج) کے دور غیبت میں آپ کو دیکھنے  اور آپ کی رائے کا علم ہونے کا دعویٰ کرنا جھوٹا ہے۔

آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی ، حوزہ علمیہ قم کے درس خارج کے استاد، نے رسا نیوزپیپر کے نامہ نگار  نے کہا: مھدویت کا مسئلہ اسلام  بلکہ تمام ادیان آسمانی کا ایک بنیادی مسئلہ  ہے اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس مسئلہ پر توجہ رکھے۔

آپ اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ مسئلہ مھدویت کی طرف توجہ کئے بغیر انسان دین کو واقعی معنی میں درک نہیں کر سکتا، فرمایا: ہماری نظر میں دین کی حقیقت کو مسئلہ مھدویت سے آگاہی حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔

حوزہ علمیہ کے استاد نے فرمایا: تمام انبیاء کی رسالتوں کا مقصد وصایت کا ختم کرنا اور مھدویت کا متحقق ہونا ہے۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ غیبت امام کے بارے میں سوالات کی بوچھاڑ ہوتی ہے ، فرمایا: فلسفہ غیبت وہ اہم مسئلہ ہے جس کے بارے میں علماء اسلام نے مختلف مطالب  جیسے لوگوں کے لیے امتحان ہونا، اور لوگوں کا معنوی مقام بلند و بالا ہونا وغیرہ کو بیان کیا ہے۔ لیکن توجہ رکھنا چاہیے کہ غیبت اسرار الٰہی میں  سے ایک سر ہے اور ایسی حقیقت ہے کہ جس کا ادراک انسانی قوت سے باہر ہے۔

مرکز فقہی کے پرنسپل نے بیان کیا: غیبت خدا وند عالم کا ایک خاص فعل ہے کہ انسان اس فعل کی حقیقت سے آشنائی پیدا نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا: واقعی منتظر وہ ہے جو کبھی آپ کی رویت کا دعویٰ نہیں کرتا، اور امام (عج) نے اپنے آخری نائب خاص کو آخری رقعہ میں فرمایا: ہماری رویت کا دعوی کرنے والا جھوٹا ہے اور اس کی تکذیب ہونا چاہیے۔

حوزہ علمیہ کےاستاد نے فرمایا: اگر کوئی امام زمانہ (عج) سے ملاقات کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ امام کے انتظار کرنے والوں میں سے نہیں ہے۔ اور اسی طریقے سے جو آپ کے نظریہ اور رائے سے واقف ہونے کا دعوی کرے۔

انہوں نے اضافہ کیا: سنت الٰہی یہ ہے کہ زمان غیبت میں احکام کچھ کلی اصول اور قوانین کی بنیاد پر استنباط ہوں۔ اور فقہاء کی طرف سے بیان ہوں۔ اس بنا پر امام کی رائے کے علم ہونے کا دعوی کرنا بے بنیاد ہے۔