|
||||||||||||||
سوال: کیوں مرتد کو اعدام کرنا چاہیے؟ اور یہ مسئلہ کیسے دین کے انتخاب کرنے میں آزادی اور لااکراہ فی الدین کے ساتھ سازگار ہے؟ ج: مرتد اگر اپنے مرتد ہونے کااعلان کرے محکوم بالقتل ہے۔ لیکن اگر اعلان نہ کرے تو یہ حکم اس پر لاگو نہیں ہو گا۔ مرتد در حقیقت اپنے مرتد ہونے کے اعلان کے ساتھ دین ، خدا اور رسول کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتاہے اس اعتبار سے اسے قتل کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ہم اس بات کے معتقد ہیں کہ دین عقل اور منطق کی بنیاد پر قائم ہے اور ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنی عقل اور فکر سے صحیح کام لے اور اس کے باوجود اسلام کا انکار کر دے۔ اسلام آسمانی ادیان میں سے جامعترین اور کاملترین دین ہے یہ دین تمام گذشتہ آسمانی ادیان پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف سے آزادی یہ تقاضا نہیں کرتی کہ اس دین کے ساتھ کہ جو سعادت بشر کا ذمہ دار ہے مقابلہ کرے مرتد اپنی اس مخالفت کے ساتھ دوسرے انسانوں کو بھی گمراہ اور منحرف کر سکتا ہے اس اعتبار سے بھی اس کو ختم کر دینا چاہیے۔ مختصر یہ کہ مرتد ایک درندہ حیوان کی طرح ہے کہ جسے نابود کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ س: میں ایک طرح کے خوراکی مادہ کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں کہ جس کا نام جلاٹین(gelatine) ہے۔ جلاٹین بظاہر حیوان سے لیا جاتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ شائد مسلمانوں کے لیے حلال نہ ہو۔ لیکن وہ مسلمان جو مغرب میں زندگی گذارتے ہیں سب اس کو استعمال کرتے ہیں چونکہ تمام غذاؤں میں تقریبا موجود ہوتا ہے حتی صابن کے اندر بھی پایا جاتاہے۔ میری گذارش یہ ہے کہ اپنی نظر اس بارے میں بیان فرمائیں۔ ج: اگر جلاٹین حلال گوشت حیوانوں کی ہڈیوں سے لیا جاتا ہے اور مردہ حیوانوں کے گوشت سے نہیں لیا جاتا اس کے استعمال میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر سور اور کتے کی ہڈیوں سے لیا جاتا ہو یا مردہ جانوروں کے گوشت سے لیا جاتا ہو تو اس کا کھانا حرام ہے۔ س: میں آذربائجان میں رہتا ہوں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مرغ، سویس، کالباس کہ جو حلال ہونے کے عنوان سے ہمارے ملک میں بیچے جاتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ ج: اگر انکے جھوٹ ہونے کا اطمینان نہ ہو استعمال کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اگر بیچنے والا ایسا انسان ہے کہ جو بظاہر دینی حدود کی رعایت کرتا ہے اطمینان کے لیے یہی مقدار کافی ہے، لیکن اگر بیچنے والا دین کو کوئی اہمیت نہیں دیتا صرف یہ کہ اس پر حلال کا لیبل لگا ہو کافی نہیں ہے۔ |
|
|||||||||||||